اٹھاؤ چولھا

( اُٹھاؤُ چُولھا )
{ اُٹھا + اُو + چُو + لھا }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان کے لفظ 'اُٹھاؤ' کے ساتھ 'چُولھا' لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٠ء کو "فسانۂ آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - وہ چولھا (دیگدان) جسے آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھا کر رکھ سکیں اور جس کی جگہ بدلی جا سکے۔
"جانا اور اٹھاؤ چولھے کی طرح بیٹھنا اور گفتگو اور رخصت سب دوہی منٹ میں ہو ہوا چکا۔"      ( ١٨٨٨ء، ابن الوقت، ٨٠ )
صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
١ - وہ جو ایک جگہ جم کر نہ رہے، بے ٹھکانہ، نگھرا، نگوڑا، ناٹھا۔
 بنتا نہی بے دلھن کے دولھا بے زن کے ہے مرد اٹھاؤ چولھا      ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ١٨٧ )
متعلق فعل
١ - روا روی میں، تیزی سے۔
"جاتی ہیں تو ایسی اٹھاؤ چولھا کہ ادھر گئیں ادھر آئیں۔"      ( ١٩٠٠ء، نوحۂ زندگی، ٤٩ )