اٹکل پچو

( اَٹْکَل پَچُّو )
{ اَٹ + کَل + پَچ + چُو }

تفصیلات


ہندی زبان کے لفظ 'اَٹْکَل' کے ساتھ سنسکرت زبان کے لفظ 'پَکْشُو' سے ماخوذ لفظ 'پَچو' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٣٠ء کو "تقویۃ الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - بے جانے بوجھے، اوٹ پٹانگ، اندھا دھند، بے قرینہ۔
"اَٹکل پچو بات کہنی ہوتی تو اس وقت کہہ دیتے۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، پریم چند، ١٢٢:١ )
٢ - قیاس سے، اندازے پر مبنی، ظنی۔
"لوگ ہیں کہ اپنی معرفت والوں کا خیالی اٹکل پچو جمع و خرچ لکھتے رہتے اور کسی کو مسرف کسی کو بخیل ٹھہراتے ہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٢٧:٣ )