آر[2]

( آر[2] )
{ آر }
( سنسکرت )

تفصیلات


آوار  آر

سنسکرت زبان کا اصل لفظ 'آوار' ہے جوکہ اسم ظرف مکاں کے معنی میں مستعمل ہے۔ اس کا اردو مستعمل 'آر' ہے اردو میں سب سے پہلے ١٥١٥ء، میں کبیر کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکاں ( مؤنث )
١ - اس طرف، اِدھر، (عموماً پار کے ساتھ مستعمل)۔
 یہ تو دریا ہے جادو کا اسرار تم گئے آئے کیونکر آر اور پار      ( ١٧٨٥ء، حسرت (جعفر علی)،طوطی نامہ، ١١٠ )
١ - آر کا پار ہونا
آر پار ہوناع ہوا پیٹ تے آر کا پار او      ( ١٦٩٨ء، قصص الانبیا، قدرتی (دکنی اردو کی لغت، ٣) )
٢ - آر کرنا نہ پار کرنا
آر ہونا نہ پار ہونا کا تعدیہ، جیسے آپ اس معاملے کو آر کرتے ہیں نہ پار۔
٣ - آر ہونا نہ پار ہونا
(نقصان یا نفع پر) خاتمہ نہ ہونا، (ہار یا جیت کا) فیصلہ نہ ہونا، آدھ میں لٹکا رہنا۔"کانٹے کی کشتی ہو رہی تھی مگر نہ آر ہوتی تھی نہ پار۔"      ( ١٩٦٢ء، گنجینۂ گوہر، ١٨٤ )