آر[1]

( آر[1] )
{ آر }
( سنسکرت )

تفصیلات


آرا  آر

سنسکرت زبان کا اصل لفظ 'آرا' ہے جس کا اردو میں استعمال 'آر' ہے فارسی میں 'ارّہ' مستعمل ہے۔ اردو مستعمل لفظ 'آر' کو ہم کسی حد تک سنسکرت کے اصل لفظ 'آرا' کی تصغیر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٥ء میں "فسانہ مبتلا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم آلہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : آریں [آ + ریں (یائے مجہول)]
جمع غیر ندائی   : آروں [آ + روں (واؤ مجہول)]
١ - نوکدار کیل جو بیلوں کو ہنکانے کی پینی یا سانٹے میں لگی ہوتی ہے۔ (نوادر الفاظ، 19)
"میرے لیے اس نے ایک پینی یا آر بنا رکھی ہے جس سے وہ مجھے کچوکے دیتا ہے۔"      ( ١٩٤١ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٦٠:٢ )
٢ - چمڑا سینے کا وہ سوا جس کی نوک پر کٹواں ناکا تاگے کو پھنسا کر دوسری طرف کھینچنے کے لیے بنا ہوتا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ، 138:1)
٣ - لوہے کی نوکدار کیل جو نرم چیزوں میں سوراخ کرنے کے کام آتی ہے۔ (نوراللغات، 87:1)
٤ - آرے یا آری کا دانتا، بیڑ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 17:1)
٥ - مرغ کے پنجے کا خار یا کانٹا۔ (فرہنگ آصفیہ، 138:1)
٦ - شکر کے کارخانے یا کولھو میں رس نکالنے کی پلی۔ (فرہنگ آصفیہ، 138:1)
١ - آر کھانا
پینی چبھوئے جانے کی اذیت برداشت کرنا، سانٹے سہنا۔"بیل کی چمڑی متواتر آر کھا کھا کر بگڑ جاتی ہے۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ١٠٣ )
  • A good