کنویں کا مینڈک

( کُنْویں کا مینْڈَک )
{ کُن (ن غنہ) + ویں (ی مجہول) + کا + میں (ی مجہول) + ڈَک }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ 'کنواں' کی واحد غیرندائی 'کنویں' کے بعد اسی زبان سے ماخوذ حرف اضافت 'کا' اور آخر میں سنسکرت ہی سے ماخوذ اسم 'مینڈک' لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٦٤ء کو "نصحت کا کرن پھول" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر )
واحد غیر ندائی   : کُنْویں کے مینْڈَک [کُن (ن غنہ) + ویں (ی مجہول) + کے + میں (ی مجہول) + ڈَک]
جمع   : کُنْویں کے مینْڈَک [کُن (ن غنہ) + ویں (ی مجہول) + کے +میں (ی مجہول) + ڈَک]
جمع غیر ندائی   : کُنْویں کے مینْڈَکوں [کُن (ن غنہ) + ویں (ی مجہول) + کے + میں (ی مجہول) + ڈَکوں (و مجہول)]
١ - [ مجازا ]  محدود تجربات و معلومات کا حامل، بہت معمولی تجربات کا مالک؛ مراد: کوتاہ نظر، لاعلم، بے خبر۔
"وقت کے خط میں سے ایک نقطے کو لے کر جز کو کُل سمجھ بیٹھیں تو کنویں کے مینڈک بن کر رہ جائیں گے۔"      ( ١٩٨٤ء، حلقہ ارباب ذوق، ٤٣ )