آذر

( آذَر )
{ آ + ذَر }
( فارسی )

تفصیلات


اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور اپنی اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٤٥ء میں "احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر )
١ - آتش، آگ۔
 کچھ بیم مکافات جہنم نہیں اوس کو جو ہجر کی یاں سوزش آذر میں رہے گا      ( ١٩٠١ء، راقم، کلیات، ١٣ )
٢ - ایران کے شمسی سال کا نواں مہینہ جس کی نویں تاریخ کو ایرانی جشن مناتے ہیں اور جس میں آفتاب برج قوس میں ہوتا ہے (تقریباً پوس یا جنوری کے مطابق)۔
"اونیسویں ماہ آذر روز جمعہ کشتی تیار ہو گئ۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ١٥٤:١ )
٣ - خزاں کا مہینہ۔ (نوراللغات، 87:1)
١ - آدر نہ بھاو جھوٹے مال کھاءو
کم عزت آدمی یا کمینہ اگر بے ایمانی کرے تو اس کی عزت میں کچھ فرق نہیں آتا۔ (جامع اللغات، ٢:١)
  • Fire;  the month of the Persian calendar
  • December;  winter;  the name of Abraham's father