اتم

( اُتَّم )
{ اُت + تَم }
( سنسکرت )

تفصیلات


اُتَم  اُتَّم

سنسکرت زبان کے لفظ 'اتم' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٤٣٥ء کو "کدم راو پدم راو" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - سب سے بڑھ کر، برتر، افضل۔
"ظاہر بظاہر اچھے خاندان، اُتَّم اور بڑے راج کا مالک تھا۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠| ٥:٣ )
٢ - انسب، بہتر، بجا
"اب یہی اتم ہے کہ اس کو دھرمی سے اپنے تئیں پھونک کر راکھ بناؤ۔"      ( ١٨٢٤ء، سید عشرت، ١١ )
١ - اُتّم سے اتّم ملے، ملے نیچ سے نیچ (پانی سے پانی ملے اور کیچ سے کیچ)
شریف آدمی شریف کی طرف مائل ہوتا ہے اور کمین کمینے کی طرف، کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔"اوتم سے اوتم ملے نیچے سے نیچے، پانی سے پانی ملے کیچ سے کیچ، حضرت کبیر داس نے کچھ ایسی شخصیت کے انسانوں کے لیے پیشین گوئی کی ہے۔"      ( ١٩٣٣ء، یدقدرت، ١٥ )
٢ - اُتم کھیتی مدھم بان (--بنج /بیوپار) نکھد (--نَپِٹ / تَکھِت) چاکری بھیک (ندار / ندان)
سب سے اونچا پیشہ کاشت کاری ہے اس کے بعد بیوپار اور نوکری اور بھیک سب سے آخر میں۔"ہماری ایک پرانی کہاوت ہے اتم کھیتی مدھم بان، نکھت چاکری، بھیک ندان، غرض ترکی، لبنان، شام اور ایران نے ایک ایک اچھا ڈھنگ کھیتی باڑی کا نکالا۔"      ( ١٩٦٦ء، جدید کاشتکاری، ١٢ )
٣ - اُتّم گانا مدھم بجانا
ہر کام میں اعتدال ملحوظ رہنا چاہیے۔ (امیراللغات)