بال کشا

( بال کُشا )
{ بال + کُشا }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بال' کے ساتھ مصدر کشادن سے مشتق صیغۂ امر 'کشا' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بال کشا' مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٦٩ء میں غالب کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - اڑنے والا، پرواز کرنے والا۔
 سرس کے جادو کی داستاں ہے اڈی سی ہر جگہ بوڑھا عقاب بال کشا ہے      ( ١٩٦٣ء، کلک موج، خالد، ١١٩ )