سفارشی

( سِفارْشی )
{ سِفار + شی }
( فارسی )

تفصیلات


سِفارِش  سِفارْشی

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سفارش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٦٨ء سے "مراۃ العروس" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
جمع غیر ندائی   : سِفارْشِیوں [سِفار + شِیوں (و مجہول)]
١ - جس کی سفارش کی جائے۔
"عمل کا چوکیدار خوف ہے، اور نکوئی کا سفارشی امید۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، مرزا جان، ١٥٦ )
٢ - سفارش کرنے والا۔
"کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اپنا سفارشی مقرر کر لیا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٠٣ )