سفاہت

( سَفاہَت )
{ سَفا + ہَت }
( عربی )

تفصیلات


اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی اور حالت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٨٠ء سے "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - بے وقوفی، حماقت۔
"قاری اس کی باقاعدگی سے مرعوب ہو کر اس کے مندرجات کی سفاہت اور ذہنی افلاس سے واقف نہ ہو سکے۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٣٢٧ )
٢ - گھٹیا پن، کمینہ پن۔
 یہ طیش و سفاہت یہ کذب و خنا فہم فی الریا ستہ متنا فسون      ( ١٩٦٩ء، مزمورِ میر مغنی، ٥١ )