سراپا نور

( سَراپا نُور )
{ سَرا + پا + نُور }

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'سراپا' کے ساتھ اسم 'نور' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٩١٩ء میں "جویائے حق" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - مجسم روشنی والا، نور سے بھرا ہوا، روشن؛ (کنایۃً) حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔
"نبوت کے سراپا نور ہاتھ کا سینے پر پھیرنا تھا کہ دل روشن ہو گیا۔"      ( ١٩١٩ء، جویائے حق، ٣١٠:٢ )