سدھانا

( سِدھانا )
{ سِدھا + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


سدھ+کار  سِدھارْنا  سِدھانا

سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل لازم 'سدھارنا' کی تخفیف 'سدھانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٥٤ء سے "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - [ تعظیما ]  جانا، روانہ ہونا۔
 محمدۖ جو معراج کو جب سدھائے سنا ہوں کہ اس ٹھار پر کام آئے      ( ١٧٦٨ء، مثنوی قصہ قاضی و چور (اردو کی قدیم منظوم داستانیں، ٢٠١ )
٢ - [ مجازا ]  دنیا سے رخصت ہونا مر جانا۔
 سماں پائے لقمان سدھایا حکمت کا گن کام نہ آیا      ( ١٦٥٤ء، گنج شریف، ٧٧ )