تفرع

( تَفَرُّع )
{ تَفَر + رُع }
( عربی )

تفصیلات


فرع  فَرْع  تَفَرُّع

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٩ء میں "دیوان شاہ کمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - شاخ نکلنا، ہر شے کے اوپر کے حصے کا جڑ سے نکلنا۔
"عموماً جانبی تفرع نہیں ہوتا، لیکن پتوں کے قاعدوں پر اتفاقی کلیاں نمودار ہوتی ہیں جو ممکن ہے علیحدہ ہو کر نئے پودے پیدا کریں۔"      ( ١٩٦٤ء، مبادی نباتیات، ٥٧٢:٢ )
٢ - (بطور نتیجہ) اصل یا اصول سے نکلنا، مترتب ہونا، مبنی ہونا۔
 حقیقت محقق نہیں بے تشرع بجز اصل ممکن ہے ہرگز تفرع      ( ١٨٠٩، دیوان شاہ کمال، ١٤٥ )
٣ - [ فقہ ]  (دلیل سے) مسئلہ کو نکالنا۔
"تفرع کرنا تیمم کو پانی کے نہ ہونے پر دلیل ہے کہ پانی کی طہارت اصل ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ٢٠٣:٢ )