تفسیق

( تَفْسِیق )
{ تَف + سِیق }
( عربی )

تفصیلات


فسق  فاسِق  تَفْسِیق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٧ء میں "نورالہدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - حق و صلاح کے راستے سے ہٹ جانا، (عرفاً) فاسق کہنا، فسق کی طرف منسوب کرنا۔
"امام غزالی نے اس مذہب کی تائیدونصرت میں بہت سی کتابیں لکھیں اور معتزلہ کی تکفیر اور تفسیق۔      ( ١٩١٤ء، شبلی مقالات، ١٦:٥ )
٢ - کسی شاہد (گواہ) یا شہادت کو بددیانت اور غیر معتبر قرار دینا۔
"ولی کا قول تکذیب اور تفسیق ہے۔ شہود کی اور وہ صبطل شہادت ہے۔"      ( ١٨٦٧ء، نورالہدیہ، ١٠٩:٤ )