تفطر

( تَفَطُّر )
{ تَفَط + طُر }
( عربی )

تفصیلات


فطر  تَفَطُّر

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٦ء میں "طبقات الارض" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - چرنا، پھٹنا، درز پڑنا، پرت الگ ہونا، دراڑ پڑنے کا عمل، کھل جانا۔
"تفطر (چرنا) سلیٹ کے معدن میں اگر کوئی شخص جا کر ملاحظہ کرے تو اس کو یہ بات نظر آئے گی کہ یہ پتھر ایک مخصوص سمت میں کتنی آسانی سے پھٹتا ہے یعنی چرتا ہے۔"      ( ١٩١٦ء، طبقات الارض، ١٦٩ )