خافق

( خافِق )
{ خا + فِق }
( عربی )

تفصیلات


خفق  خافِق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٧٠ء میں "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
١ - دنیا کا کنارا چھونے والا، مشرق و مغرب، وہ حد جہاں سمت ختم ہو جائے، مراد: کائنات عالم۔
 کوئی رفو گر سینہ صد چاک کو جو سی سکے جو دل کے ٹکڑے جوڑ دے وہ شیشہ گرالے خافقین      ( ١٩٧٥ء، خروش خم، ٦٨ )