خالصہ

( خالِصَہ )
{ خا + لِصَہ }
( عربی )

تفصیلات


خلص  خالِصَہ

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خالص' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقہ تانیث و صفت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٨٠ء میں "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : خالِصے [خا + لِصے]
جمع   : خالِصوں [خا + لِصوں (و مجہول)]
جمع غیر ندائی   : خالِصوں [خا + لِصوں (و مجہول)]
١ - سرکاری زمین جس میں کسی اور کا حق نہ ہو، سرکاری جائداد، وہ علاقہ جس کا لگان ملک کی ضروریات کے لیے مخصوص ہو اور سرکار کے قبضے اور ملکیت میں ہو۔
"قبل اس کے معافی اس خانقاہ کی چہار چاہ مزروعہ تھے مگر یہ عملداری سرکاری خالصہ ضبط ہو گیے۔"      ( ١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٣١٤ )
٢ - ذی عزت، سکھوں کا لقب۔
"مجھے معلوم ہے کہ خالصہ سکھا شاہی کے زور سے پنجابی سیکھتا ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٢٠٤ )