فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خام' کے ساتھ فارسی زبان سے ہی اسم 'پارا' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے ١٨٠٣ء میں "گل بکاؤلی" میں مستعمل ملتا ہے۔
١ - وہ لڑکی جس نے بلوغت سے قبل عورت مرد کے تعلقات کا تجربہ کیا ہو؛ بہت زیادہ بننے والی؛ بظاہر جنسی تعلقات میں قدرے زیادہ محتاط، (کلمہ تشنیع کے طور پر) بدمعاش، آوارہ، مکارہ۔
"رہ تو سہی خام پارہ میں خود نواب پاس چھوٹی محل سرا میں جاتی ہوں۔"
( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٩ )
٢ - ایک چھوٹی توپ جسے گروہ یا رہکلہ بھی کہتے ہیں۔
زال دنیا ہم سے جوں سیماب تو اوڑتی ہے کیا مار رکھیں گے تجھے اے خام پارا کھینچ کر
( ١٨٣٨ء، شاہ نصیر، چمنستان سخن، ٦٣ )