خام خیال

( خام خَیال )
{ خام + خَیال }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خام' کے ساتھ فارسی زبان سے ہی اسم 'خیال' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٤٤ء میں "مفید الاجسام" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - ناسمجھ، وہمی۔
"زین المواصاف نے کہا خام خیالات کو اپنے دل سے نکال دیں۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ ولیلہ (ترجمہ)، ٢٩٣:٦ )
  • لوچ خَیال
  • تَوہَّم پَرَسْت