خام خیالی

( خام خَیالی )
{ خام + خَیا + لی }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خام' کے ساتھ فارسی زبان سے ہی ماخوذ اسم 'خیال' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٦ء میں "مکمل مجموعہ لیکچرز و اسپیچز" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مؤنث - واحد )
١ - خام خیال کا اسم کیفیت۔
"سائمن کمیشن کے سامنے اس شخص (قائداعظم) نے اسے (سائمن کمیشن کو) طلباء کی خام خیالی کہا تھا جس نے اس ملک کی پہلی کابینہ میں شریک ہونا تھا۔"      ( ١٩٧٣ء، آواز دوست، ٢٣٨ )
  • لوچ خَیالی
  • تَوَہَّم پَرَسْتی