خط مستور

( خَطِّ مَسْتُور )
{ خَط + طے + مَس + تُور }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان سے ماخوذ اسم اسم 'خط' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم صفت 'مستور' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٧٣ء میں "ارژنگ چین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - رازداری کے لیے خاص اشیاء کے پانی سے لکھی ہوئی تحریر جو خشک ہو کر کاغذ سے غائب ہو جائے اور کاغذ کو گرم یا پانی سے تر کیے بیر نہ دکھائی دے آب پیاز، آب سجی، آب لیموں، آب نارنج یا دودھ میں قدرے نوسادر ملا کر لکھنے سے صورت مذکور الصدر پیدا ہوتی ہے، خط طلسم۔
"یہ خط کافی دیکھنے میں آیا اور زیادہ تر رنگین روشنائی کا لکھا ہوا جو یقیناً خط مستورہ. ہوگا۔"      ( ١٩٦٣ء صحیفہ خوش نویساں، ٦٤ )