عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خطاب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ صفت و نسبت ملانے سے 'خطابی' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے ١٨٠٥ء میں "جامع الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔
"قرآن مجید کے دلائل جس طرح خطابی اور اقناعی ہیں یعنی عام آدمی کو ان سے تسلی ہو جاتی ہے اسی طرح وہ قیاسی اور برہانی بھی ہیں۔"
( ١٩٠٣ء، علم الکلام، ٩٩:١ )
٢ - [ منطق ] تمثیل و دلائل سے ثبوت۔
"قیاس کی چند قسمیں ہیں برہانی، جدلی، خطابی، شعری۔"
( ١٩٢٣ء، المنطق، ٢٣ )