خطرات

( خَطْرات )
{ خَط + رات }
( عربی )

تفصیلات


خطا  خَطْرات

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خطرہ' کی جمع 'خطرات' اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٣٤ء میں "دیوان زادہ حاتم" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - پروا، خیال، توجہ، لحاظ۔
 لیکن وہ صفات جو ہیں اس عالم میں لانا نہ ذرا تو اس کے غمگیں خطرات      ( ١٨٣٩ء، مکاشفات الاسرار، ٥٤ )
٢ - خطرے، اندیشے، الجھنیں۔
"آنحضرت صلعم کو سینکڑوں مصائب و خطرات اور بیسیوں معرکے اور غزوات پیش آئے لیکن کبھی پامردی اور ثبات کے قدم نے لغزش نہیں کھائی۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٤٤:٢ )