خطوط رموز

( خُطُوطِ رُمُوز )
{ خُطُو + طے + رُمُوز }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خطوط' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'رمز' کی جمع 'رموز' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٠٥ء میں "رسالہ روشنائی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - جمع )
١ - پراسرار لکیریں، رمزیہ لکیریں، نشانات۔
"معلوم ہوتا ہے کہ خطوط رموز کی طرح استادان قدیم نے ایسے اجزا بکوشش تمام بہم پہونچائے ہونگے۔"      ( ١٩٠٥ء، رسالہ روشنائی، ٨١ )