بالا پوش

( بالا پوش )
{ با + لا + پوش (واؤ مجہول) }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بالا' کے ساتھ مصدر پوشیدن سے مشتق صیغۂ امر 'پوش' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بالا پوش' مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ملتا ہے۔ ١٨٠٥ء میں افسوس کی 'آرائش محفل' میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - وہ کپڑا یا چادر جو بستر یا جسم وغیرہ پر ڈال دیتے ہیں، پلنگ پوش، میز پوش وغیرہ۔
"خوان جس پر جواہر دوز بالا پوش پڑا ہے ہمراہ لائیں۔"    ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٥٤٤:١ )
٢ - جسم کو ڈھانکنے کی چادر وغیرہ۔
"آپ ہلکا سا ایک بالا پوش اس برقعے کے بدلے لے لیجیے۔"    ( ١٩٢٤ء، خونی بھید، ٤٤ )
٣ - لحاف، رضائی وغیرہ۔
"چھ برس کا پرانا بالا پوش وہ بھی ایک اور بندے چھ۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٤١ )
  • coverlet
  • quilt