بالا بین

( بالا بِین )
{ با + لا + بِین }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان میں اسم 'بالا' کے ساتھ مصدر دیدن سے مشتق صیغۂ امر 'بین' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بالابین' مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٧ء میں "کاشف الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - وہ شخص جس کی نظر معاملات کے سطحی پہلوؤں تک محدود نہ ہو اور وہ وسعت نظر کے ساتھ ہر پہلو پر غور کرے۔
"اس کمی وسعت نظر کے ساتھ اپنے کو بلند نگاہ، بالابیں اور حقیقت آگاہ سمجھتے ہیں۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣٦٩:٢ )
اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - ایک قسم کا بسنتی گلاب جو شاخ پر اوپر کی جانب اٹھا رہتا ہے۔
"عام طور پر یہ پھول دو قسم پر مشتمل ہوتا ہے ایک کو بالابیں کہتے ہیں اور دوسرے کو زیربیں۔"      ( ١٩٣٩ء، رسالۂ علم نباتات، ٨٦ )