اذن عام

( اِذْنِ عام )
{ اِذ + نے + عام }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان کے لفظ 'اِذْن' کے ساتھ 'عام' بطور اسم صفت لگایا گیا ہے۔ اس طرح یہ مرکب توصیفی ہے۔ اردو میں ١٧٥٤ء کو "ریاض غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد ( مذکر - واحد )
١ - بادشاہ وغیرہ کے دربار میں یا کسی متبرک مقام پر، ہر شخص کو بے تکلف حاضری کی اجازت، داخلے سے روک ٹوک کی ممانعت۔
 کم نصیب ایسا ہوں گر ہو خرمی کو اذن عام ہو نہ شادی مرگ ہونے کے سوا شادی مجھے    ( ١٨٤٦ء، آتش کلیات، ١٧٤ )
٢ - سب لوگوں کو یکساں حیثیت سے کسی عمل یا کسی جگہ آنے جانے کا حکم یا رخصت۔
"حکومت کی طرف سے لوٹ مار کا اذن عام تھا۔"    ( ١٩١٨ء، ویڈیا کی سرگزشت، ٤ )
٣ - نماز جنازہ کے بعد صاحب میت کی طرف سے یہ اعلان کہ جو صاحب چاہیں واپس جا سکتے ہیں۔
"جب نماز جنازہ پڑھ چکتے ہیں تو میت کا وارث یا کوئی بڑا بوڑھا خواہ رشتہ دار اذن عام دیتا ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد، ١١٠ )