تبذیر

( تَبْذِیر )
{ تَب + ذِیر }
( عربی )

تفصیلات


بذر  تَبْذِیر

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٠٦ء میں "الحقوق و الفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - دولت تباہ کرنا، مال کو فضول خرچ کرنا، بے ضرورت روپیہ اڑانا۔
"پیغمبر صاحب کا مقصود کفن میں اسراف و تبذیر کرنے کی ممانعت ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٧٩:٣ )
٢ - پراگندگی کرنا؛ زمین سے گھاس کا اگنا۔ (لغات کشوری)