ابتغا

( اِبْتِغا )
{ اِب + تِغا }
( عربی )

تفصیلات


بغی  اِبْتِغا

عربی زبان سے اسم مشتق۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ عربی میں اصل لفظ 'ابتغاء' ہے اردو میں 'ء' کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے 'ابتغا' لکھا جاتا ہے، 'ابتغاء' بھی مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو گلیاتِ ولی میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم حاصل مصدر
١ - طلب، خواہش (ترکیب میں مستعمل)۔
"قرآن مجید نے مطلق کسب کی بجائے 'ابتغاء فصل' کی اصطلاح اختیار فرمائی ہے"۔      ( ١٩٦٢ء، تجدید معاشیات، ١٥٢ )