کرتی

( کُرْتی )
{ کُر + تی }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے ماخوذ اسم مذکر 'کُرتَہ' کی 'ہ' حذف کرکے اسکی جگہ 'ی' بطور لاحقہ تذکیر | لاحقۂ تانیث لگانے سے مشکل ہوا جو اردو میں بطور اسم مؤنث استعمال ہوا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧٩١ء کو جعفر علی حسرت کے "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جنسِ مخالف   : کُرتا 
جمع   : کُرْتِیاں [کُر + تِیاں]
جمع غیر ندائی   : کُرْتِیوں [کُرْ + تِیوں (و مجہول)]
١ - بے آستینوں کا اونچا کرتا جسے عورتیں انگیا کے طور پر پہنتی ہیں، چھوٹا کرتا، سینہ بند، چھوٹی قمیض، عورتوں کا کُرتَہ۔
"گاڑھے کی کُرتی خاص ہو گی بھی کیا? ریشم کی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٣٦٢ )
٢ - فوجی وردی کا جاکٹ، وردی۔
 تھیں کرتیاں تلنگوں کی مانند لالہ زار تھا دود توپ ابر سیاہ تگرگ بار      ( ١٧٨٠ء، کلیاتِ سودا، ٢٨٨:١ )
٣ - بانات کی چھوٹی قمیض جو کہار پہنتے ہیں۔
"بھوئی کرتیاں بادلے کی پہنے ہوئے حاضر ہوئے۔"      ( ١٧٩٢ء، عجائب القصص، شاہ عالم ثانی، ٥٩ )