کلیجہ

( کَلیجَہ )
{ کَلے + جَہ }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں اپنے ماخذ معانی و متداول ساخت کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "تمہیداتِ رَبانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : کَلیجے [کَلے + جے]
جمع   : کَلیجے [کَلے + جے]
جمع غیر ندائی   : کَلیجوں [کَلے + جوں (و مجہول)]
١ - جسم انسانی کا سب سے بڑا غدود جو داہنے طرف واقع ہے، ایک اندرونی عضو جس میں پت پیدا ہوتا ہے، جگر۔
"اب میرا کلیجہ کھالو سب، بڑی بہو نے دھیا دھپ بچے کو پیٹ ڈالا۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٨٩ )
٢ - دل یا سینے کے معنوں میں۔
"میں نے ایک سیکنڈ میں فیصلہ کیا اور میرا چاقو معصومہ کے کلیجے کو کاٹ چکا تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٢٩ )
٣ - نہایت عزیز اور قیمتی چیز، مایہ حیات، متاعِ زندگی، پیارا عزیز شخص۔
 ایک مادر کا کلیجا، ایک بیوہ کا سہاگ ایک دریا کا کنارا اور اک شعلے کی آگ      ( ١٩٤٧ء، نبضِ دوراں، ١٠٨ )
٤ - ہمت، جرات، حوصلہ، طاقت، دلیری، بہادری۔
 عدو دیکھیں خوشی، احباب تیرے رنج و غم دیکھیں کہاں سے یہ کلیجہ لائیں، کن آنکھوں سے ہم دیکھیں      ( ١٩٢٧ء، میخانۂ الہام، ١٨٨ )
٥ - طنز، نفرت اور کراہت کے اظہار کے موقع پر عورتیں بولتی ہیں جیسے کسی نے پوچھا یہ کیا بات ہے، جواب دیا تیرا کلیجا یا تیرا سر۔
"بھلا سہو تو سہی جو تم اس قابل ہو گئے تو پھر ہم کیا تمھارا کلیجہ چبائیں گے۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٩، ١٠:٦ )