مبارک گھڑی

( مُبارَک گَھڑی )
{ مُبا + رَک + گَھڑی }

تفصیلات


عربی زبان سے مشتق اسم 'مبارک' کے بعد ہندی اسم 'گھڑی' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٦ء کو "فلورا فلورنڈا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف زمان ( مؤنث - واحد )
جمع   : مُبارَک گَھڑیاں [مُبا + رَک + گَھڑیاں]
جمع غیر ندائی   : مُبارَک گَھڑِیوں [مُبا + رَک + گَھڑِیوں (و مجہول)]
١ - نیک ساعت، خوشی کا وقت، سبھ گھڑی، اچھا وقت۔
"یہ وہ مبارک گھڑیاں ہیں جن کا بدل پھر کبھی نہ مل سکا۔"      ( ١٩٨٩ء، علامہ اقبال سے آخری ملاقاتیں، ٦١ )