ذوی الارحام

( ذَویُ الْاَرْحام )
{ ذَوِل (ی ا غیر ملفوظ) + اَر + حام }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان سے ماخوذ اسم 'ذوی' کے ساتھ 'ا ل' بطور حرف تخصیص لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'ارحام' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٦٧ء کو "نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - [ میراث ]  میت کے وہ ورثا جو ذوی الفروض اور عصبہ نہ ہوں مثلاً میت کی بیٹیوں اور پوتیوں کی اولاد، میت کا نانا اور نانا کا باپ یا نانا کی ماں یا نانا کی نانی، بہنوں کی اولاد بھائیوں کی بیٹیاں وغیرہ۔
 پھر ہو وہ تقسیم ذوالارحام میں بعد ہم مولی الموالاۃ اس کو لیں      ( ١٨٩١ء، کنزا لآخرۃ، ١٥١ )
٢ - قرابت دار، رشتہ دار۔
 عزیزاں کا خوشدل سدا توں کرے ذوالارحام کا حق ادا تُوں کرے      ( ١٦٨٨ء، ہدایات ہندی، ٤١ )
  • Relatives by the mother's side