بانا بند

( بانا بَنْد )
{ با + نا + بَنْد }

تفصیلات


سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بانا' کے ساتھ فارسی مصدر بستن سے مشتق صیغۂ امر 'بند' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بانا بند' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٤٦ء میں "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( واحد )
١ - جو بانا یا دوسرے ہتھیار سے لیس ہو۔
"پچاس ہزار سوار اور سوائے بانا بند ہیں۔"      ( ١٧٤٦ء، قصۂ مہر افروز دلبر، ٢٣٨ )