تسفل

( تَسَفُّل )
{ تَسَف + فُل }
( عربی )

تفصیلات


سفل  تَسَفُّل

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٤٦ء میں "ہمارا قائد" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - سغلہ پن، ذلیل سمجھنا۔
"اپنے تذلل اور تسفل کے صدقے میں مسلمانوں نے اسلام کو ایک نج کا مذہب سمجھنا شروع کر دیا۔"      ( ١٩٤٦ء، ہمارا قائد، ١١ )