محصل

( مُحَصِّل )
{ مُحَص + صِل }
( عربی )

تفصیلات


حصل  حاصِل  مُحَصِّل

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق 'اسم فاعل' ہے۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٨٧ء کو "موعظۂ حسنہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر )
جمع استثنائی   : مُحَصِّلِین [مُحص + صِلِین]
١ - حاصل کرنے والا، تحصیل کرنے والا، طالب علم۔
"عالم موسیقی ہونے کے لیے بہت بڑا شخص محصل ہونا چاہیے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ٣٠:١ )
٢ - محصول وصول کرنے والا، کرایہ یا ٹیکس جمع یا وصول کرنے والا، تحصیل کا سپاہی، تحصیل دار۔
"دس پندرہ خاص کارندے محصل لگان اور ایک ریٹائرڈ پرانا تجربہ کار سولین اسٹیٹ منیجر ڈیوڑی پر موجود رہتے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٣٧ )
٣ - ٹیلی فون کا رسیور جس میں سے آواز سنائی دیتی ہے، آواز گیر۔
"ہم میز پر رکھے ٹیلیفون کا محصل اٹھاتے ہیں اور کوئی دو میل کے فاصلے پر ایک دوکان کو ایک فرمائش کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ٢ )
٤ - برقی لہریں وصول کرنے والا آلہ (ایریل، انٹینا وغیرہ)
"اپنے سفر کے دوران جب یہ موجیں کسی محصل کے ہوائیے سے ٹکراتی ہیں۔"      ( ١٩٨٩ء، ریڈیائی صحافت، ١٣ )