مثنوی نگار

( مَثْنَوی نِگار )
{ مَث + نَوی + نِگار }

تفصیلات


عربی زبان سے مشتق اسم 'مثنوی' کے بعد فارسی مصدر 'نگاشتن' سے صیغہ امر 'نگار' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧٣ء کو "اردو ادب کی تنقیدی تاریخ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
جمع غیر ندائی   : مَثْنَوی نِگاروں [مَث + نَوی + نِگا + روں (و مجہول)]
١ - مثنوی لکھنے والا، مثنوی گو شاعر۔
"میر حسن. اردو کے ممتاز ترین اور بہترین مثنوی نگار بھی ہیں۔"      ( ١٩٩٣ء، نگار، کراچی، اگست، ٣ )