بٹوارا

( بَٹْوارا )
{ بَٹ + وا + را }
( سنسکرت )

تفصیلات


ونٹ  بَٹْوارا

سنسکرت میں اصل لفظ 'ونٹ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بٹوارا' مستعمل ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٥ء میں 'فسانۂ مبتلا' میں مستعمل ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : بَٹْوارے [بَٹ + وا + رے]
جمع   : بَٹْوارے [بَٹ + وا + رے]
جمع غیر ندائی   : بَٹْواروں [بَٹ + وا + روں (واؤ مجہول)]
١ - جائیداد یا مال مشترک کی تقسیم، ساجھے کی چیز کی حصہ رسدی بانٹ۔
"اگر دونوں بھائیوں میں یہی مفایرت رہی تو ضرورت بٹوارا ہو جائے گا۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٩٥ )
٢ - شرکاء کی علیحدگی۔ (پلیٹس)
٣ - تقسیم نامہ، وہ دستاویز جس میں تقسیم کی تفصیلات اور شرائط درج ہوں۔ (ماخوذ : فرہنگ آصفیہ، 366:1؛ نوراللغات، 567:1)
٤ - گاؤں میں ایک کاشتکار کے کھیت کو دوسرے کے کھیت سے الگ اور ممتاز کرنے کے لیے سرکاری طور پر حدبندی۔
"ہری سنگھ امین بٹوارہ نے - نقشہ جات کی کتابوں کے بہم پہنچانے میں بہت سی اور کوشش کی۔"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مقالات، ٣٥٥ )