تاب دار

( تاب دار )
{ تاب + دار }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی زبان سے اسم مشتق 'تاب' کے ساتھ 'داشتن' مصدر سے 'دار' فعل امر بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں پہلی دفعہ "قصہ تمیم انصاری (اردو شہہ پارے)" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی
١ - روشن، چمکتا ہوا، تاباں، براق۔
"اتنی بتی کی طاقت کا نور مصنوعی طور پر کتنا تاب دار ہو گا۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ٢٨٩ )
٢ - پیچ دار، خم دار۔
 گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر      ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ٨ )