پارا

( پارا )
{ پا + را }
( سنسکرت )

تفصیلات


پارہ  پارا

اصلاً سنسکرت کا لفظ ہے۔ سنسکرت میں اس کا تلفظ 'پارہ' ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اور مندرجہ تلفظ (پارا) کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٤١٩ء میں 'ادات الفضلا' میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
١ - ایک سیال دھات کا نام جو سفید وزنی اور بے قرار یا متحرک ہوتی ہے تنہا آنچ پر نہیں ٹھہرتی، سیماب۔
 جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارا ہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٠٧ )
٢ - [ مجازا ]  پارے کے ذریعے گرمی ماپنے کا آلہ، تھرمامیٹر، حرارت پیما، تپش پیما۔
"پارا لگا کر ان کی حرارت کا اندازہ کیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٠، ١٠:١٨ )
صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
١ - بھاری، وزنی۔
"تمہاری مگدر کی جوڑی تو پارا ہو رہی ہے مجھ سے نہیں اٹھ سکتی۔"      ( ١٩٦٠ء، مہذب اللغات، ٤٧٤:٢ )
٢ - بیقرار، مضطرب، ایک جگہ نہ ٹھہرنے والا۔ (نوراللغات، 6:2)
١ - پارا اترنا
غصہ دھیما ہونا، جوش فرو ہو جانا۔"میرے کہنے سے ذرا بی انا جی کا پارا اترا"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٥٨:٧۔ )