بدعت حسنہ

( بِدْعَتِ حَسَنَہ )
{ بِد + عَتے + حَسَنَہ }
( عربی )

تفصیلات


عربی زبان سے ماخوذ اسم 'بدعت' کے آخر پر 'کسرۂ صفت' لگا کر عربی اسم 'حسن' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگنے سے 'بدعت حسنہ' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٧ء میں 'خیابان آفرینش' میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - وہ بدعت جس سے شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہو اور جو محض نیک نیتی پر مبنی ہو۔ (ماخوذ : اسلامی سائیکلوپیڈیا، 136)
"یہ تو دوسری بات ہے کہ اس قسم کی نیازیں بدعت حسنہ ہیں یا بدعت سیئہ۔"١٩٣ء، فراق، مضامین، ٨٥
٢ - وہ نئی یا دستور جو معاشرے کے حق میں بہتر اور مستحسن ہو۔
"لیڈروں کی بنائی ہوئی سیاسی شریعت میں عقل کو دخل دینا کفر نہیں رہا بلکہ صرف بدعت ہے اور بہتوں کے عقیدے میں تو بدعت حسنہ۔"      ( ١٩٤٥ء، صبح امید، ١٠١ )