پالا[4]

( پالا[4] )
{ پا + لا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پَل  پالا

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت میں اس کا مترادف 'پل' ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦١ء میں "بیاض شمیم" (قلمی نسخہ) میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی ( مذکر - واحد )
جنسِ مخالف   : پالی [پا + لی]
واحد غیر ندائی   : پالے [پا + لے]
جمع   : پالے [پا + لے]
١ - پروردہ، پرورش کیا ہوا۔
 کفر کا پالا ہر خم گیسو فرق نہیں ہے اس میں سرمو      ( ١٩٢٦ء، ہفتِ کشور، ٦١ )