پالا[2]

( پالا[2] )
{ پا + لا }
( ہندی )

تفصیلات


ہندی سے اردو میں داخل ہوا اور اپنی اصلی صورت اور اصلی معنی میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٦٥ء میں "صوفیائے بہار اور اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پالے [پا + لے]
جمع   : پالے [پا + لے]
جمع غیر ندائی   : پالوں [پا + لوں (و مجہول)]
١ - اکھاڑا، وہ مقام جہاں کُشتی لڑنے والے زور آزمائی کریں، بازی گاہ۔
"ہم لوگوں نے بیچاری تقدیر کو اپنے آرام طلب دل کا پالا بنا رکھا ہے۔"      ( ١٩١٠ء، راحت زمانی، ٨٤ )
٢ - وہ نشان یا مٹی رکھ کر بنائی ہوئی کبڈی کے میدان کی درمیانی لکیر جو کبڈی اور دوسرے کھیلوں میں حدِ فاصل کے واسطے بنا لیتے ہیں۔ (نوراللغات 14:2؛ فرہنگ آصفیہ، 479:1)
٣ - کبڈی کے مقررہ میدان کا وہ قطعۂ زمین جو درمیانی حدِ فاصل کے ادھر ادھر دو برابر حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔
"سانس روک کر دوسرے فریق کے پالے میں کبڈی کبڈی کہتے ہوئے جاتے تھے۔"    ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٤١٠:١ )
٤ - جیت، جیت کا نشان، فتح کا نشان۔ (جامع اللغات، 14:2؛ نوراللغات، 14:2)
٥ - مرغ، بٹیر وغیرہ لڑانے کی جگہ۔ (اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 110:8)
٦ - (کبڈی وغیرہ کا) مقابلہ، بازی۔
"شاہد نے آکر کہا، ابے! آج دو پالے باغ میں بڑے زور کے ہوں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، حیاتِ صالحہ، ٨٥ )