اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
١ - اکھاڑا، وہ مقام جہاں کُشتی لڑنے والے زور آزمائی کریں، بازی گاہ۔
"ہم لوگوں نے بیچاری تقدیر کو اپنے آرام طلب دل کا پالا بنا رکھا ہے۔"
( ١٩١٠ء، راحت زمانی، ٨٤ )
٢ - وہ نشان یا مٹی رکھ کر بنائی ہوئی کبڈی کے میدان کی درمیانی لکیر جو کبڈی اور دوسرے کھیلوں میں حدِ فاصل کے واسطے بنا لیتے ہیں۔ (نوراللغات 14:2؛ فرہنگ آصفیہ، 479:1)
٣ - کبڈی کے مقررہ میدان کا وہ قطعۂ زمین جو درمیانی حدِ فاصل کے ادھر ادھر دو برابر حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔
"سانس روک کر دوسرے فریق کے پالے میں کبڈی کبڈی کہتے ہوئے جاتے تھے۔"
( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٤١٠:١ )
٤ - جیت، جیت کا نشان، فتح کا نشان۔ (جامع اللغات، 14:2؛ نوراللغات، 14:2)
٥ - مرغ، بٹیر وغیرہ لڑانے کی جگہ۔ (اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 110:8)
٦ - (کبڈی وغیرہ کا) مقابلہ، بازی۔
"شاہد نے آکر کہا، ابے! آج دو پالے باغ میں بڑے زور کے ہوں گے۔"
( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، حیاتِ صالحہ، ٨٥ )