پائدان

( پائِدان )
{ پا + اِدان (کسرۂ ا مجہول) }
( فارسی )

تفصیلات


فارسی میں اسم 'پا' کے ساتھ 'ئے' برائے ترکیب لگانے سے 'پائے' بنا۔ اس کے ساتھ فارسی لاحقۂ ظرف 'ذان' لگانے سے اسم بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٣٢ء میں "روحِ ظرافت" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
جمع غیر ندائی   : پائِدانوں [پا + اے + دا + نوں (و مجہول)]
١ - گاڑی پر چڑھنے کو پیر ٹکانے کا زینہ جو گاڑی کی حیثیت سے مختلف وضع کا ہوتا ہے اور سوار ہونے کے لیے سیڑھی کا کام دیتا ہے۔
"یکّے کی خوبیوں کا تذکرہ کیا جس میں پیر رکھنے کا پائدان بھی ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، روح ظرافت، ٥٠ )
٢ - پاانداز، دری یا قالین وغیرہ کی وضع کا گدیلا یا ربڑ یا لوہے کی جالی وغیرہ جو پیر صاف کرنے کے لیے کمرے کی چوکھٹ کی دہلیز کے سامنے رکھا جاتا ہے، برش (اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 186:1)
٣ - پاؤں رکھنے کا وہ لوہے یا لکڑی کا تختہ وغیرہ جس سے خراد، سینے کی مشین، بائسکل یا ارگن باجا وغیرہ چلاتے ہیں۔
"خراد کو صنوبر کی لکڑی کے پائدان کے ذریعے سے حرکت دی جاتی ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، انجینیری زندگی کے عملی چالیس سبق، ٨٣ )