پائنتی

( پائِنْتی )
{ پا + اِنتی }
( ہندی )

تفصیلات


ہندی سے اردو میں ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
١ - (ہر قسم کی چارپائی یا قبر کی) وہ سمت یا جگہ جدھر پیر پھیلائے جائیں، سرہانے کی ضد۔
"مزارِ اقدس کی پائنتی پر بے ہوش پڑے رہے۔"      ( ١٩٤٣ء، سیدہ کی بیٹی، ٥٦ )
متعلق فعل
١ - پائنتی کی جانب، پیروں کے رُخ۔
"رضائیاں - تہہ کی ہوئی پائنتی رکھی ہیں۔"      ( ١٩٠٥ء، لیکچروں کا مجموعہ، ٢٨٦:٢ )