آرسی

( آرْسی )
{ آر + سی }
( سنسکرت )

تفصیلات


سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'آدرشکا' ہے لیکن اردو زبان میں داخل ہو کر 'آرسی' مستعمل ہوا۔ سب سے پہلے ١٣٢٤ء میں امیر خسرو کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مؤنث - واحد )
جمع   : آرْسِیاں [آر + سِیاں]
جمع غیر ندائی   : آرسِیوں [آر + سِیوں (واؤ مجہول)]
١ - ہاتھ کے انگوٹھے میں پہننے کا ایک انگشتری نما زنانہ زیور جس میں نگینے کی جگہ منھ دیکھنے کا شیشہ جڑا ہوتا ہے۔
 آنکھوں کے سامنے یوں صورت تری چرائے دیدہ بہت بڑا ہے چھوٹی سی آر سی کا      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ١٠ )
٢ - آئینہ۔
 کہاں مجنوں کہاں لیلٰی ذرا صورت تو دیکھ اپنی جو ہو صاف آرسی دل کی انا لیلٰی انا لیلٰی      ( ١٩٢٨ء، مرقع لیلٰی مجنوں، ١١٩ )
  • Mirror
  • looking-glass;  a small mirror worn
  • in place of a stone
  • in a thumb-ring by Indian women
  • also the ring with the mirror