پتوار

( پَتْوار )
{ پَت + وار }
( سنسکرت )

تفصیلات


پاتر  پَتْوار

سنسکرت میں اسم 'پاتر + پال' سے ماخوذ 'پتوار' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٠ء میں 'کلیاتِ سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )
جمع غیر ندائی   : پَتْواروں [پَت + وا + روں (و مجہول)]
١ - کشتی کا رخ پھیرنے یا موڑنے کا تھا جو کشتی کے سرے پر لگا ہوتا ہے اس کے نچلے سرے کی دھار جس طرف پھیری جائے اِسی رخ کشتی مُڑ جاتی ہے۔
'بحری جہاز کا رُخ اس کے پتوار کے ذریعے موڑا جاتا ہے۔"    ( ١٩٧٢ء، خلا میں پرواز، ٦ )
٢ - ہوائی جہاز کے پَر اور دُم کا وہ حصّہ جس سے رخ بدلا جاتا ہے۔
'عام ہوائی جہاز - اپنے پروں اور کھڑی دم کے پتواروں کو ہوا میں موڑنے سے اپنا رخ بدلتا ہے۔"    ( ١٩٧٢ء، خلا میں پرواز، ٦ )
٣ - بجرے کی قسم کی سامنے سے چوڑی اور پیچھے سے تکونی شکل کی ناؤ۔ (اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 168:5)
٤ - کھیم، ارواڑ۔
'بلی راستہ نہ پا کر جان بچانے کے لیے جال کی پتواروں پر لٹک گئی۔"      ( ١٩٦٣ء، دلی کی شام، ٢٢٧ )
٥ - چَپُو۔
'یونانی ملاحوں نے چند پتوار جھوٹ موٹ ڈال کر کھیلنا شروع کیا۔"      ( ١٩٢٩ء، حسرت، مضامین، ١٩٥ )
  • Rudder;  helm;  a large oar or paddle used as a rudder