پتا

( پَتا )
{ پَتا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پترکا  پَتا

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں سب سے پہلے ١٦٩٧ء میں 'یوسف زلیخا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ ( مذکر - واحد )
واحد غیر ندائی   : پَتے [پَتے]
جمع   : پَتے [پَتے]
جمع غیر ندائی   : پَتوں [پَتوں (و مجہول)]
١ - سراغ، کھوج، نشان؛ وجود یا آثار۔
'اگر کہیں پتہ پائیں تو جانثارجانیں لڑا دیں۔"      ( ١٨٩٠ء، فسانۂِ دلفریب، ١٧ )
٢ - حلیہ، علامت، پہچان، صنعت وغیرہ کے حوالے جن سے کسی چیز کو پہچانا جا سکے۔
 خفا گر نہ ہو تو یہ ہم نے سُنا ہے کہ عیار و پر فن پتا ہے کسی کا      ( ١٩٠٥ء، دیوانِ انجم، ٧ )
٣ - ٹھور ٹھکانا، نام محلہ اور مقام وغیرہ (جو اکثر ایلچی کو بتاتے یا خط پر لکھتے ہیں)۔
 نہ پوچھ نامہ بروں سے اس آستاں کا پتا کدھر خیال ہے کیسا پتا کہاں کا پتا      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ١٢١ )
٤ - حال، احوال کا علم؛ خیر خیبر۔
 غیر کا اس کو کچھ نہ پتا ہو خواہ بھلا ہو خواہ بُرا ہو      ( ١٩٥٤ء، دھم پد (ترجمہ)، ٢٨ )
  • sign;  mark;  signal;  symptom;  token;  trace;  clue;  hint;  direction;  specification;  particular mention;  address (of a person);  address (or place to which one is directed);  label;  book of instructions and regulations (for rent-collectors)