پتھرانا

( پَتْھرانا )
{ پَتھ + را + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پتھر  پَتْھرانا

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پتھر' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامتِ مصدر 'انا' لگا کر 'پتھرانا' بنا اور بطور فعل مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو 'دیوانِ قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

فعل لازم
١ - پتھر کی حالت اختیار کر لینا، سخت ہو جانا۔
'ہماری یہ ساری باقیات پتھرائے ہوئے انڈوں، درختوں جانوروں، - سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔"      ( ١٩٥١ء، وادی سندھ کی تہذیب، تمہید، ع )
٢ - بھاری ہو جانا۔ (جامع اللغات، 35:2)
 کیابہانہ جو کافر نے بت پرستی کا تو عین وصل میں پتھرائیں پتلیاں میری      ( ١٨٥٨ء، امانت (نوراللغات، ٥٣:٢) )
  • to be petrified;  to become hard;  to indurate