پٹنا

( پِٹْنا )
{ پِٹ + نا }
( سنسکرت )

تفصیلات


پِٹ  پِٹْنا

سنسکرت میں فعل 'پِٹ' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت لاحقۂِ مصدر 'نا' لگانے سے فعل لازم بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٨ء میں 'دیوانِ اظفری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
١ - [ مجازا ]  جَھک، ناگوارِ خاطر کام یا بات کا ذکر؛ رونا۔
'تم کو اسی کا پٹنا پڑا رہتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٥٧:٢ )
٢ - دکھڑے یا مصیبت کا بیان یا شکایت
'وہاں سے بھی انگریزیت کا پٹنا آیا تھا۔"      ( ١٩٠٦ء، مکاتیبِ مہندی، ٢٦٧ )
٣ - ماتم، کہرام۔ (فرہنگِ آصفیہ، 501:1)
فعل لازم
١ - مار کھانا۔
 عدو کے گھر سے پٹ کر جب یہاں تشریف لائیں گے بخار اترے گا سارا عاشقِ بیمار و بے جاں پر      ( ١٩٤٣ء، سنگ و خشت، ٨٩ )
٢ - چوٹ یا صدمہ اٹھانا، شکست کھانا؛ نقصان کی زد میں آ جانا۔
 دستِ فلک سے ہند کی خلقت بہت پٹی جو کچھ تھی اس کی عظمت و وقعت وہ مٹی      ( ١٩٠٧ء، کلیاتِ اکبر، ٣٦١:١ )
٣ - [ شطرنج ]  کسی گوٹ کا ایسے خانے میں آ جانا کہ مقابل کے خانے کی گوٹ کو کھیل کے قاعدے کے مطابق بے دخل اور خارج کر کے خود اس کی جگہ لے لے، گوٹ وغیرہ کا کھیل سے خارج ہو جانا۔
'تمھاری چال ہو چکی، تمھارا پیدل پِٹ چکا۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پچیسی، ١٤٧:٢ )
  • mallet
  • wooden hammer used for pounding